بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے تسمیع کہنے کا حکم

سوال

اگر آدمی اکیلا نماز ادا کررہا ہے تو  سمع الله لمن حمده کہنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اکیلےنماز پڑھنے والے کے لیے تسمیع  اور تحمید "  سمع الله لمن حمده" اور "ربنا لك الحمد" کہنا سنت ہے ،لہذا صورت ِ مسئولہ میں اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے دونوں کہنا سنت ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"فإن كان إماما يقول سمع الله لمن حمده بالإجماع وإن كان مقتديا يأتي بالتحميد ولا يأتي بالتسميع بلا خلاف وإن كان منفردا الأصح أنه يأتي بهما. كذا في المحيط وعليه الاعتماد."

(كتاب الصلاة،الباب الرابع في صفة الصلاة،ج:1،ص:74،دارالفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609102345
تاریخ25-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں