بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں کوئی بھی اعتکاف کےلیے نہ بیٹھے تو اس پر وعید

سوال

اگر کسی مسجد میں ایک آدمی بھی اِعتکاف کے لیےنہیں بیٹھا تواس پرکیا وعید ہے؟

جواب

ہر محلہ کی مسجد  میں اعتکاف کرنا اہلِ محلہ کے ذمے سنتِ مؤ کدہ علی الکفایہ ہے،  پس اگر بعض افراد نے اعتکاف  کرلیا، تو سب کے ذمہ سے اعتکاف کی سنت کی ادائیگی  ساقط  ہوجائے گی، اور اگر کوئی بھی نہ بیٹھا، تو تمام محلہ گناہ گار ہوگا۔

الدر المختار  میں ہے:  

"وبالتعليق ذكره ابن الكمال (وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الإنكار على من لم يفعله من الصحابة (مستحب في غيره من الأزمنة) هو بمعنى غير المؤكدة."

(کتاب الصوم،باب الإعتکاف ،ج:2، ص:442، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101992
تاریخ20-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں