بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی پہلی دس رکعتوں میں آخر سے اور بعد کی دس رکعتوں میں شروع سے پارہ پڑھنا

سوال

دو حافظ صاحب مثلا زید اور بکر ایک مسجد تراویح میں قرآن  مجیدسناتے ہیں، زید روزانہ پہلے کی 10 رکعتیں پڑھاتا ہے اور بکر آخر کی دس رکعتیں پڑھاتا ہے۔ تو ہر پارے کا نصف اول زید پڑھتا اور نصف آخر بکر پڑھتا ہے۔ اچانک ان میں سے ایک دن کسی کو کوئی عذر پیش آ جاتا ہے اور آخر والا پہلے پڑھانے کو کہتا ہے تو کیا نصف آخر کو پہلی دس رکعتوں میں اور نصف اول کو آخری دس رکعتوں میں پڑھنا صحیح ہوگا۔ رہنمائی فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ 

جواب

تراویح کی نماز میں قرآن کریم کی ترتیب سے ہٹ کر قراءت کرنا  امت کے متوارث طریقے اور تعامل  کے خلاف ہے ؛ اس لیے تراویح کی نماز میں قرآنِ کریم کو ترتیب کے خلاف پڑھنا (یعنی ابتدائی رکعتوں میں پارہ  کا آخری حصہ  اور آخر کی رکعتوں میں پارے کا ابتدائی حصہ پڑھنا) مکروہ ہے۔

مناهل العرفان في علوم القرآن "میں ہے:

"وقد كره جماعة مخالفة ترتيب المصحف. وروى ابن أبي داود عن الحسن أنه كان يكره أن يقرأ القرآن إلا على تأليفه في المصحف. وبإسناده الصحيح عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه قيل له: إن فلانا يقرأ القرآن منكوسا فقال: ذلك منكوس القلب."

(المبحث التاسع: في ترتيب آيات القرآن وسوره، ترتيب السور، 1/ 359، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101970
تاریخ20-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں