بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ بے ریش کی امامت کاحکم

سوال

 مجھے معلوم یہ کرنا ہے کیا بالغ لڑکا  جس کی عمر 16 سال ہو ابھی اس کی داڑھی نہ آئی ہو تو وہ باجماعت نمازکی امامت کراسکتاہے؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں بالغ بے ریش  اگر محل فتنہ ہو تو اسے امام بنانا  مکروہ تنزیہی  ہے ، اور اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی اما مت بلا کراہت جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"مطلب في ‌إمامة ‌الأمرد(قوله وكذا تكره خلف أمرد) الظاهر أنها تنزيهية أيضا. والظاهر أيضا كما قال الرحمتي أن المراد به الصبيح الوجه لأنه محل الفتنة."

(کتاب االصلاۃ، باب الامامۃ، ج:1، ص:562، ط سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101615
تاریخ16-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں