بالغ بے ریش کی امامت کاحکم
سوال
مجھے معلوم یہ کرنا ہے کیا بالغ لڑکا جس کی عمر 16 سال ہو ابھی اس کی داڑھی نہ آئی ہو تو وہ باجماعت نمازکی امامت کراسکتاہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں بالغ بے ریش اگر محل فتنہ ہو تو اسے امام بنانا مکروہ تنزیہی ہے ، اور اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی اما مت بلا کراہت جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"مطلب في إمامة الأمرد(قوله وكذا تكره خلف أمرد) الظاهر أنها تنزيهية أيضا. والظاهر أيضا كما قال الرحمتي أن المراد به الصبيح الوجه لأنه محل الفتنة."
(کتاب االصلاۃ، باب الامامۃ، ج:1، ص:562، ط سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

