بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورت بھولنے سے سجدہ سہو کا لازم ہونا

سوال

اگر نماز میں سورت بھول جاۓ تو کیاسجدہ سہو کرنا واجب ہے؟

جواب

فرض کی پہلی دو رکعتوں اور وتر وسنن اورنوافل کی تمام رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا ضروری ہے، اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں  سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

اللباب في شرح الکتاب میں ہے :

"والسهو يلزم إذا زاد في صلاته فعلاً من جنسها ليس منها، أو ترك فعلاً مسنوناً أو ترك قراءة فاتحة الكتاب، أو القنوت، أو التشهد، أو تكبيرات العيدين، أو جهر الإمام فيما يخافت أو خافت فيما يجهر."

(ج:1،ص:47،الناشر : دار الكتاب العربي)

الدرالمختار مع الرد  میں ہے:

"ولها واجبات وهي قرائة فاتحة الکتاب وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار،  ... (و) في جمیع رکعات النفل؛ لأن کلّ شفع منه صلاة، وکل الوتر".  

(كتاب الصلاۃ ،واجبات الصلاة،،ج :1،ص :459،ط:سعید کراچی)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101590
تاریخ16-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں