بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ لڑکے کی اقتداء میں نماز تراویح پڑھنےکاحکم

سوال

کیا محلے کی مسجد میں جماعت چھوڑ کر گھر میں نابالغ لڑکے کی اقتداء میں نماز تراویح پڑھنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح فرض نمازوں کے امام کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے، اسی طرح تراویح کی نماز پڑھانے والے امام کے لیے بھی بالغ ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں نابالغ کے پیچھے بالغ حضرات کی  تراویح کی نماز پڑھنا درست نہیں ہوگا۔

درمع الردمیں ہے:

"(ولا يصح اقتداء رجل بامرأة)وخنثى (وصبي مطلقا)ولو في جنازةونفل على الأصح...قوله ونفل على الأصح) قال في الهداية: وفي التراويح والسنن المطلقة جوزه مشايخ بلخ ولم يجوزه مشايخنا، ومنهم من حقق الخلاف في النفل المطلق بين أبي يوسف ومحمد. والمختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها. اهـ. والمراد بالسنن المطلقة السنن الرواتب والعيد في إحدى الروايتين، وكذا الوتر والكسوفان والاستسقاء عندهما فتح."

 (کتاب الصلوٰۃ،باب الإمامة،ج:1، ص:576،ط:سعید)

فتاوی دارالعلوم دیوبندمیں ہے:

"سوال :تراویح میں نابالغ امام ہوتوبالغین ونابالغین کواس کی اقتداءجائزہے یا نہیں ۔جواب نابالغ کےپیچھےتراویح پڑھنےمیں اختلاف ہے مگراصح یہ  کہ جائزنہیں  فی المنیۃ وذکرفی بعض الفتاوی انہ لایجوزان یؤم البالغین فی التراویح فقط۔"

(کتاب الصلوٰۃ،الباب الثانی فی الوتر والنوافل،ج:4،ص:190،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101583
تاریخ16-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں