بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زبان ميں لكنت ہونے کی صورت میں قرآن کے حروف کی ادائیگی کا حکم

سوال

میری زبان میں بہت لکنت اور ہکلاہٹ ہے ،بات کرنے میں بھی اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں بھی اور قرآن مجید کے چند الفاظ ایسے ہیں جو میری زبان پر ہی نہیں آتےاور پڑھے نہیں جاتے وہ یہ ہیں:  ب، ت، ک، ق، تو راہ نمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟

جواب

 صورت مسئوله ميں سائل کو چاہئے کہ كسي ماهر استاد كي زيرنگراني ان حروف کو صحیح كرنے كي بھر پور مشق اور کوشش كرے اور محنت كركے ان كي ادائيگي درست كرے ليكن اگر ادائيگي درست نه هو توسائل معذور ہے اور اميد كي جاسكتي هے كه اس پر سائل سےکوئی مواخذہ نہيں هوگاكيوں كه اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر مکلف بنایا ہے جتنا اس کے بس میں ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

" لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا...الآية."

 (سورة البقرة، رقم الآية: 285)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ومن لا يحسن بعض الحروف ينبغي أن يجهد ولا يعذر في ذلك."

(کتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الخامس في زلة القارئ، ج:1، ص:79، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101391
تاریخ14-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں