بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ناک سے پانی حلق میں اتر گیا

سوال

روزے کی حالت میں ناک سے پانی حلق میں چلاجائے اور اس کو تھوک دے تو روزے کا حکم اور جب کہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا اور اگر روزہ ٹوٹ گیا تو قضا کے بدلے رمضان میں ہی کوئی دوسرے عمل سے ادا کرسکتے  ہیں قضا۔

جواب

 ناک میں پانی ڈالتے وقت اگر پانی غلطی سے حلق میں چلا گیا  اور  روزہ یاد تھا تو روزہ فاسد ہوگیا، قضا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں ہے،اور  اگر  روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔باقی رمضان میں تو رمضان کے فرض روزے رکھے جائیں گے، اوررمضان کے بعد قضا کے روزے رکھے جائیں،رمضان میں کسی اور عمل سے قضا روزے ادا نہیں ہوسکتے۔

فتاوى هندیہ میں ہے:

'' وإن تمضمض أو استنشق فدخل الماء جوفه إن كان ذاكراً لصومه فسد صومه، وعليه القضاء، وإن لم يكن ذاكراً لا يفسد صومه، كذا في الخلاصة، وعليه الاعتماد.''

(کتاب الصوم،ج1،ص202،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101339
تاریخ13-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں