بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کی دیوار باہر غیر مملوکہ جگہ تک نکالنا

سوال

ایک شخص  گھر کے تنگ ہونے کی وجہ سے  اپنے گھر کی دیوار کو گلی کی جانب تین فٹ باہر نکالنا چاہتا ہے،   اس فعل سے مذکورہ دیوار گھر کے چھجے کی سید ھ میں آجائے گی، مذکورہ دیوار کی جگہ  فی الحال چبوترا بنا ہوا ہے، جسے توڑ کر مذکورہ دیوار بنائی جائے گی،  حال یہ ہے کہ مذکورہ گلی  12 میٹر  ہے، جو کہ کافی وسیع اور چوڑی ہے، اس دیوار کے نکالنے سے لوگوں کو ضرر لاحق نہیں ہوگا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مکان کی دیوار کو تین فٹ باہر  گلی کی طرف نکالے؛ اس لیے کہ باہر والی جگہ  اس کی ملکیت نہیں، باقی اگر مذکورہ تجاوزات سے کسی کو ضرر نہیں ہوتا تو اس کی وجہ سے مذکورہ تجاوزات جائز نہیں ہو جائیں گی، حکم یہی رہے گا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".

(مشكاة المصابيح، 1/254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

ترجمہ: حضرت سعید بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین اس کے گلے میں بطورِ طوق ڈالی جائے گی۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101161
تاریخ11-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں