بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فدیہ ادا کر دینے کے بعد روزوں پر قادر ہوجانا

سوال

سوال یہ کہ میری دادی نے پچھلے سال روزے نہیں رکھے تھے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اور اُس سال انہوں نے فدیہ بھی ادا کیا ہے۔اب اِس سال انہوں نے فرض روزے رکھے ہیں اور رکھ بھی رہی ہیں، تو جو پچھلے سال فدیہ ادا کیا ہے ،کیا وہ شرعا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب فدیہ اد اکرنے کے بعد سائل کی  دادی دوبارہ روزہ رکھنے پر قادر ہو گئی ہیں، تو اب ان کا پچھلے سال  کا ادا کردہ فدیہ معتبر نہیں،وہ صدقہ ہوگیا، اور اب  ان روزوں کی (جن کا پہلے فدیہ ادا کیا تھا)قضا کرنی  لازم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية."

(كتاب الصوم ، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار،1/ 207، دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101035
تاریخ10-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں