بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کوقرض پر دینا

سوال

ہمارا سونے کی چوڑیوں کا کاروبار ہے،ہم 6فی صدپرافٹ پردکانداروں کوسوناقرضے میں دیتے ہیں یعنی دکانداروں کوجونفع ملےگااس کا چھ فیصد نفع ہم کودیں گےاورقرض واپس کرنےمیں دکان داروں کی  مرضی ہےکہ   وہ سونا دے دیں یا وصولی کے دن کےحساب سے اس سونے کی قیمت پیسوں سے ادا کریں ۔اور دکاندار تھوڑا تھوڑا کر کے ہم کو سونایااس کی قیمت واپس کرتے ہیں ،تو شرعاًاس کاحکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سونے کو قرض پہ دیکراس پرنفع لیناسود ہےجوکہ ناجائز اورحرام  ہے،لہذاصورت مسئولہ میں سونے کواس طورپہ قرض دیناکہ دکانداروں کوجونفع ملےگااس کا چھ فیصد نفع ہم کودیں گے   ناجائزاور حرام ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر."

(کتاب البیوع، فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101033
تاریخ10-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں