بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں حجامہ کروانا

سوال

رمضان میں حجامہ لگوانا کیسا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں حجامہ کروانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا،البتہ اگرروزے کی حالت میں  حجامہ کروانے کی  صورت میں کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو یہ عمل  مکروہ ہوگا ، ليكن اگر رمضان میں حجامہ كروانا ہو تو غروب آفتاب كے بعد كروانا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وكذا لا تكره حجامة) أي الحجامة التي لا تضعفه عن الصوم، وينبغي له أن يؤخرها إلى وقت الغروب والفصد كالحجامة وذكر شيخ الإسلام أن شرط الكراهة ضعف يحتاج فيه إلى الفطر كما في التتارخانية إمداد، وقال قبله: وكره له فعل ما ظن أنه يضعفه عن الصوم ‌كالفصد والحجامة والعمل الشاق لما فيه من تعريضه لإفساد."

(‌‌كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:419، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609100913
تاریخ09-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں