بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں بلغم آنے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟

سوال

اگر روزے کی حالت میں کسی شخص کو بلغم آجائے، تو کیا روزہ فاسد ہوجائے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں  اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں  بلغم آجائے، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، تاہم اگر بلغم کی مقدار زیادہ اور اس بلغم کو قصدا نگل لیا جائے، تو امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ فاسد ہوجائے گا، اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ فاسد نہیں ہوگا، اس لیے احتیاظ ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: فينبغي الاحتياط) ؛ لأن مراعاة الخلاف مندوبة وهذه الفائدة نبه عليها ابن الشحنة ومفاده أنه لو ابتلع البلغم بعدما تخلص بالتنحنح من حلقه إلى فمه لا يفطر عندنا قال في الشرنبلالية ولم أره ولعله كالمخاط قال: ثم وجدتها في التتارخانية سئل إبراهيم عمن ابتلع بلغما قال إن كان أقل من ملء فيه لا ينقض إجماعا وإن كان ملء فيه ينقض صومه عند أبي يوسف وعند أبي حنيفة لاينقض. اهـ."

(كتاب الصوم، باب كا يفسد الصوم و ما لا يفسده، 400/2، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609100800
تاریخ08-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں