بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی نماز کس وقت تک پڑھی جاتی ہے؟

سوال

عشاء کی نماز کس وقت تک پڑھی جاتی ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں عشاء کا آخری وقت  طلوعِ فجر تک باقی رہتا ہے،  البتہ شدید عذر کے بغیر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لینی چاہیے؛ تاکہ کراہت نہ ہو۔  تاہم اگر کسی عذر  کی وجہ سے عشاء کی نماز میں تاخیر ہوگئی اور   طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لی تو وہ نماز ادا شمارہوگی، قضا شمار نہیں ہوگی۔ اور صبح صادق تک بھی عشاء کی نماز ادا نہیں کی تو قضا شمار ہوگی۔

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وابتداء وقت صلاة العشاء والوتر منه أي من غروب الشفق على الاختلاف الذي تقدم إلى قبيل طلوع الصبح الصادق لإجماع السلف."

(کتاب الصلوۃ ص: 178 ط: دارالکتب العلمیة  بیروت ۔ لبنان)

فتح القدیر میں ہے:

"كما في العشاء يندب تأخيرها إلى ما قبل الثلث ويصليها إذ ذاك، فإن لم يفعل إلى النصف انتفى الندب وكان مباحا، وما بعده مكروه."

(کتاب الصلوۃ ، باب المواقیت ، جلد : 1 ، صفحہ : 228 ، ط : دارالفکر لبنان)

فقط وا للہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609100378
تاریخ04-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں