بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا جماعت سے تراویح پڑھنےکا حکم

سوال

عورتوں کا جماعت سے تراویح پڑھنےکا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ تحریمی ہے چاہے تروایح  میں ہویا کسی بھی نماز میں ہو،لہذا عورتوں کو اپنی جماعت قائم کرکے جماعت کے ساتھ تروایح نہیں پڑھنی چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح

(قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا."

(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج: 1، ص: 565، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويكره إمامة المرأة للنساء في الصلوات كلها من الفرائض والنوافل إلا في صلاة الجنازة."

(کتاب الصلاۃ، ألباب الخامس فی الإمامة، ج: 1، ص: 85، ط: دار الفکر)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"‌وكره ‌جماعة النساء بواحدة منهن ولا يحضرن الجماعات لما فيه من الفتنة والمخالفة.... 

"وكره جماعة النساء" تحريما للزوم أحد المحظورين قيام الإمام في الصف الأول وهو مكروه أو تقدم الإمام وهو أيضا مكروه في حقهن."

(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج: 1، ص: 304، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609100125
تاریخ01-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں