بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں منجن سے دانت صاف کرنا مکروہ ہے۔

سوال

کیا روزہ کی حالت میں منجن سے دانوں کو صاف کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ ہم روزہ کی حالت میں دانت صاف کر سکتے ہیں؟

جواب

منجن سے دانت صاف کرنے سے روزہ نہیں  ٹوٹتا،البتہ مکروہ ہوجاتاہے، لیکن اگر منجن کے ذرات حلق سے نیچے چلے گئے تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا۔بہتر یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں مسواک کیاجائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا، قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية: لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر: فلا بأس به عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج:1، ص:199، ط:رشيديه)

جواہر الفقہ میں ہے :

بلاضرورت کسی چیز کو چبانایانمک وغیرہ چیک کر تھوک دینا,ٹوتھ پیسٹ ،منجن یا کوئلہ  وغیرہ سےدانت صاف کرنابھی روزہ میں مکروہ ہے۔

( جلد 1،ص:379،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی ،دو جلدوں والی طبع)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609100103
تاریخ01-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں