بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زانی کے اپنی مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

ایک آدمی نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا، پھر تقریباً تین مہینے کے بعد اس عورت کی بیٹی سے اس آدمی کا رشتہ طے ہوا، تو کیا یہ زانی اس مزنیہ عورت کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ زانی پر اس کی مزنیہ عورت کی اولاد ہمیشہ کےلیے حرام ہوچکی ہے، لہٰذا اس زانی کا اپنی مزنیہ کی بیٹی سے رشتہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد، كذا في محيط السرخسي. فلو تزوجها نكاحا فاسدا لا تحرم عليه أمها بمجرد العقد بل بالوطء هكذا في البحر الرائق. وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا، كذا في فتاوى قاضي خان. فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير."

(كتاب الطلاق، باب المحرمات، ج:1، ص:302، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144608101914
تاریخ23-02-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں