بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سسرال کا لڑکی کے مہر پر قبضہ کرکے نہ دینے کا حکم

سوال

ایک خاتون کا  نکاح ہوا ،نکاح میں حق مہر اس طرح طے ہوا کہ کل حق مہر ایک لاکھ روپے زیوارت کی صورت میں معجل اور پانچ ہزار روپے نقد ، نکاح کے بعد شوہر نے پانچ ہزار روپے نقد بھی ادا کر دیے اور حق کا سونا بھی شوہر نے ادا کردیا تھا، لیکن پھر سسرال والوں نے سونا اپنے پاس رکھ لیا تھا ، اب شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور خاتون اپنے میکے چلی گئی ہے، اب خاتون کہتی ہے کہ یہ میرا حق ہے ، مجھے اپنا حق چاہیے ، اب معلوم کرنا ہے کہ شرعاً یہ لڑکی کا حق ہے یا نہیں ؟اور سسرال والوں کا  سونا واپس نہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مہر کا سونا لڑکی کا حق ہے ، سسرال والوں کا لڑکی  کا سونا  اپنے پاس رکھ کر واپس نہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ،ان پر لازم ہے کہ لڑکی کو ان کا حق واپس کردیں ،بصورتِ دیگر    عنداللہ مواخذہ ہوگا ۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".

(باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254، ط:قديمي)

ترجمہ:" حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔"

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144608101791
تاریخ22-02-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں