بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو ماہ سے میکے بیٹھی بیوی کا حکم

سوال

میری اہلیہ دو ماہ سے میکے میں ہے اور واپس نہیں آرہی ،میں بڑوں کو صلح کے لیے درمیان میں نہیں ڈالنا چاہتا اس لیے کہ اس صورت میں بڑوں کواسکی تمام غلطیاں بتانی پڑیں گی جو میں نہیں چاہتا ہوں،میں دو ماہ سے  خالی گھر کا کرایہ بھر رہا ہوں اور اس گھر میں سب سامان میری اہلیہ کا ہے میرا کچھ نہیں ہے، برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل  بیوی سے رابطہ کرکے اس کو منائے،اگر اس کی کوئی جائز شکایت ہے تو اس کی تلافی کرے،اگر آپس کی گفت وشنید سے مسئلہ حل نہ ہورہا ہو تو خاندان کے بڑوں کو اعتماد میں لے کر ان کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے یہی شرعی ترتیب ہے۔

قرآن پاك ميں هے:

"وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما" [النساء: ٣٥] 

ترجمه:اگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشائش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کا لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھیجو۔ اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالی ان میاں بی بی کے درمیان اتفاق فرمادیں گے۔

(بيان القرآن)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144608101607
تاریخ20-02-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں