بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شوہر کی زندگی میں فوت ہونے والی بیویاں شوہر کی وارث ہوگی؟

سوال

میرے بہنوئی کا 19/01/2024ء میں انتقال ہوچکا ہے، جب کہ میری بہن کا انتقال مرحوم (بہنوئی ) سے پہلےیعنی 30/09/2022ءکو  ہوچکاہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا میری بہن کا اپنے شوہر کے ترکہ / میراث میں  کوئی حق ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل بہن کا اس کے شوہر کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا تو ان  کا اپنے شوہر (سائل کے بہنوئی) کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌أن ‌شرط ‌الإرث ‌وجود ‌الوارث ‌حيا ‌عند ‌موت ‌المورث."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:769، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه."

(کتاب الفرائض ج:6 ص: 758، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144608101202
تاریخ15-02-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں