بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کی تقریب کے لیے کونسی تاریخ بہتر ہے؟

سوال

کیا 25،26 شعبان شادی کی تقریب کے لیے صحیح تاریخ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی خاص تاریخ میں شادی کرنا یا کسی خاص تاریخ میں شادی نہ کرنا  شرعا ً اس کی  کوئی حیثیت نہیں ہے،نہ اس سلسلے میں شریعت کی طرف سے کوئی پابندی ہے، جانبین اور دولہا دلہن کے لیے جس تاریخ میں آسانی ہو وہ متعین کرنی چاہیے۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ میں ہے

"وتزوج ‌حفصة بنت عمر بن الخطاب في ‌شعبان سنة ثلاث... وتزوج أم سلمة بنت أبى أمية في ‌شعبان سنة أربع."

”ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہمااورام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا سے شعبان کے مہینہ میں عقد نکاح فرمایا۔“

(محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ذكر زوجاته وسراريه صلى الله عليه وسلم، ج:1، ص:40، ط:دار الفكر بيروت)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144608100086
تاریخ01-02-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں