بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان کے درخت کاٹنے کا حکم

سوال

میری بستی میں ایک پرانا قبرستان ہے جو وقف شدہ ہے اب حد براری کے بعد کچھ درخت قبرستان میں آگئے ہیں وہ قبرستان کے تقدس کو پامال نہیں کرتے، ان کو نئے متولی کاٹنا چاہتے ہیں کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  اگر درخت قبرستان میں تدفین میں رکاوٹ کا باعث نہیں بن رہے  تو انہیں لگے رہنے دیا جائے،البتہ اگر متولی کسی معقول عذر کی بناء پر اس کو کاٹنا چاہے تو کاٹ سکتا ہے ۔

مراقی الفلاح میں ہے :

"و" كره "قلع الحشيش" الرطب "و" كذا "الشجر من المقبرة" لأنه ما دام رطبا يسبح الله تعالى فيؤنس الميت وتنزل بذكر الله تعالى الرحمة "ولا بأس بقلع اليابس منهما" أي الحشيش والشجر لزوال المقصود."

(باب أحكام الجنائز،فصل في زيارة القبور،ص:230،المكتبة العصرية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102860
تاریخ29-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں