بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مستقبل کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی

سوال

10 دسمبر 2024ء کو میں نے اپنی بیگم سے یہ کہا تھا اور بیوی میکے میں تھی کہ آپ آجاؤ، ورنہ میں طلاق  دے دوں گا، میرا  مقصد اپنی بیگم کی اصلاح تھی اس کو تنبیہ کرنا تھا، تاکہ وہ اپنی روش درست کرے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا  ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے یہ الفاظ "آپ آجاؤ، ورنہ میں طلاق دے دوں گا" تو اس جملے   سے سائل کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ یہ جملہ ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے، لہذا دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔

العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(کتاب الطلاق، ج:1، ص:38، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102839
تاریخ29-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں