بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ناپاک قالین کو اٹھانا دشوار ہوتو خشک ہونے کے بعد اس پر نماز پڑھنا جائز ہوگی؟

سوال

پلید قالین اگر خشک ہوگیا ہو،  اور اس کا دھونا اور اٹھانا بہت ہی دشوار ہو،  تو  ایسے قالین پر نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ناپاک قالین کو اُٹھانا اگرچہ بہت دشوار ہو ، تب بھی محض خشک ہونے سے وہ پاک نہیں ہوگا، بلکہ نماز پڑھنے کے لیے قالین کو پاک  کرنا ضروری ہوگا،ایسے بھاری قالین کو پاک کرنے کی صورت یہ ہے کہ ایک مرتبہ دھو کر رکھ دیا جائے  یہاں تک کہ اس میں سے پانی ٹپکنا بند ہو جائے، جب پانی ٹپکنا بند ہو جائے تو پھر دوبارہ دھویا جائے اور دھونے کے بعد انتظار کیا جائے، یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے، اس طرح تین مرتبہ کرنے سے قالین پاک ہو جائے گا ۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس."

(كتاب الطهارة، ‌‌الباب السابع، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج : 1، ص :  42، ط : دار الفكر)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله: وبتثليث الجفاف ‌فيما ‌لا ‌ينعصر) ‌أي ‌ما ‌لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا وتجفيفه في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وهو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس."

(کتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج : 1، ص : 250، ط : دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102800
تاریخ28-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں