بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے درمیان ہمبستری میں حد بندی

سوال

میاں بیوی کی ہمبستری کے متعلق عمر کی کوئی قید ہے یا نہیں؟ یعنی کس عمر تک ہمبستری کرسکتے ہیں؟

جواب

میاں بیوی کے درمیان ہمبستری کے متعلق شریعت میں کوئی قید نہیں ہے یعنی شریعت نے کوئی ایسی عمر متعین نہیں کی کہ جس کے بعد میاں بیوی آپس میں ہمبستر نہ ہوسکیں، البتہ میاں اور بیوی دونوں کو اس معاملہ میں ایک دوسرے کی رعایت رکھنی چاہیے۔ بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کے مطالبہ کو حتی المقدور پورا کرے اور شوہر کو بھی چاہیے کہ بیوی کی طبیعت  (بیماری اور صحت، تھکاوٹ اور بشاشت) کی رعایت رکھے، قدرت سے زیادہ اس پر بوجھ نہ ڈالے، ہمبستری کے معاملہ میں اعتدال سے کام لے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح» . متفق عليه. وفي رواية لهما قال: «والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها»»

(فأبت) : أي: امتنعت من غير عذر شرعي (فبات) : أي: زوجها (غضبان) : أي: عليها كما في رواية (لعنتها الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية قيل: والحيض ليس بعذر في الامتناع لأن له حقا في الاستمتاع بما فوق الإزار عند الجمهور وبما عدا الفرج عند جماعة."

(کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء  و ما لکل  واحدۃ من الحقوق، ج نمبر۵، ص نمبر ۲۱۲۱، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102736
تاریخ28-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں