بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کتروانے کی امامت مکروہ تحریمی ہے

سوال

امام داڑھی کٹواکر مطلب ایک مشت سے کم رکھے تو وہ امامت کروا سکتا ہے؟

جواب

داڑھی منڈوانا اور شرعی حد یعنی ایک مٹھی سے کم کتروانا ناجائز اور حرام ہے، اس کا مرتکب فاسق ہے، اور اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔

المستدرک علی الصحیحین للحاکم میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن سركم أن تقبل صلاتكم فليؤمكم ‌خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم عز وجل"

(ذكر مناقب مرثد بن أبي مرثد الغنوي، ج:3، ص:246، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك ‌كما ‌يفعله ‌بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح."

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:418، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102238
تاریخ23-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں