بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا رجب کے کونڈے کھانا جائز ہے؟

سوال

اگر کوئی رجب کے کونڈے بھیجے اور اس کو کھا لیا جائےتو گناہ ہوگا کیا؟

جواب

رجب میں کونڈے کی رسم غیر شرعی اور بدعت ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔ اگر کہیں سے اس قسم کا کھانا آجائے تو اسے کھانا حرام تو نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ خود کھانے کے بجائے کسی مستحق کو دے دیا جائے۔

کفایت المفتی میں ہے:

"یہ کونڈوں کی رسم ایک ایسی ایجاد ہے جس کے لئے شریعت مقدسہ میں کوئی دلیل نہیں ہے لہذا اسے ترک کردینا ضروری ہے  مگر اس کی حقیقت  یہ نہیں کہ وہ کھانا حرام ہوجاتا ہے کھانا تو فی حد ذاتہ مباح ہے ہاں منع کرنے والے کو ان کونڈوں کا کھانا جاکر کھانا مناسب نہیں کہ اس کے اس اقدام سے فی الجملہ رسم کی بھی تائید ہوتی ہے رشتہ داری اور دوستانہ کی وجہ سے بھی جاکر کھانا  مناسب نہیں کہ یہ بھی ایک طرح کی مداہنت ہے ۔"

(کتاب الحظر والاباحت،ج:9،ص:96،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102211
تاریخ23-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں