بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رامین نام رکھنا

سوال

رامین نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’رامین‘‘  لفظ فارسی زبان میں ”رام“ سے  بنا ہے، اس کے معنی :  مطیع ،فرماں بردار،  اطاعت گزار وغیرہ کے ہیں۔ (لغات فارسی ، ص: 416، ط: دار عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرو)

جب کہ عربی زبان   میں اس کے معنی : "ارادہ کرنے والے" یا "تیر اندازی کرنے والے" کے آتے ہیں، اور یہ جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے،  ایک شافعی فقیہ  قاضی حسن بن حسین کے دادا کا نام  ” رامین“ تھا،  لہذا لڑکے کا  یہ نام رکھنا درست ہے۔

تاج العروس میں ہے :

"(و) القاضي (الحسن بن الحسين) بن محمد (بن رامين) الاستراباذي، (فقيه) شافعي حدث عن عبد الله بن محمد بن الحميدي الشيرازي، وعنه أبو بكر الخطيب، أورد ابن عساكر من طريقه مسلسلاً ينتهي إلى إبراهيم بن أدهم، رضي الله تعالى عنه قرأته في تاريخه".

 (35 / 115، ط: دارالهداية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144607102131
تاریخ23-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں