بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کئی سال وزے نہیں رکھے تو اب کیا کرے؟

?سوال

 اگر کوئی بندہ 30 یا 40 سال کے عمر تک روزہ نہ رکھے اور پھر اس عمر میں توبہ کرلے ،تو چھوڑے گئے روزوں کا کیا کرے گا اور اس کا کفارہ کیا ہوگا؟

✓جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی عذر کے بغیر  روزے قضا ہوئے ہیں، تو    اللہ کے حضور  خوب توبہ استغفار کرے اورجتنے سالوں کے روزےنہیں رکھے ان سب روزوں کی قضاکرے۔البتہ اگر روزوں کی قضاء کرنا شروع کردیا ہو پھر زندگی کے آخر تک پورے روزوں کی قضاء نہ کرسکے تو بقیہ روزوں کے فدیہ کی وصیت کرنا ضروری ہوگا۔

دررالحکام شرح غررالاحکام میں ہے:

"(‌وقضوا ما قدروا) أي لزم عليهم قضاء صوم أيام مضت بقدر ما أدركوا من أيام زوال العذر، وفائدة لزوم القضاء وجوب الوصية بالإطعام عند فقد القضاء."

(كتاب الصوم، فصل حامل أو مرضع خافت على نفسها وولدها من الصوم، ج:1، ص:209، ط:دار إحياء الكتب العربية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144607100915
تاریخ10-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں