بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر قبضہ اور اختیارات کے تحریری طور پر زمین گفٹ کرنا

سوال

میرے دادا نے اپنے بارہ بچوں میں سے  دو بچوں کو 58ایکڑ زمین قبضہ  دیے بغیر تحریری طور پر گفٹ کردی تھی،جبکہ نفع نقصان کے دادا خود مالک تھے۔آخر تک اس میں جو زراعت وغیرہ ہوتی تھی، تو دادا خود سنبھالتے تھے،اب دادا کا انتقال ہوچکا ہے،تو یہ زمین دادا کے ترکہ میں شمار ہوگی یا بیٹوں کی ملکیت شمار ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق سائل کے دادا نے مذکورہ زمین صرف اپنے دوبیٹوں کو تحریری طور پر گفٹ کی تھی،قبضہ ، مالکانہ حقوق اور تصرف کے تمام اختیارات دادا کے پاس کے تا حیات رہے،  تو محض کاغذات میں 58 ایکڑ زمین دو بیٹوں کے نام کرنے سے وہ  اس زمین  کے شرعا  مالک نہیں ہوں گے، بلکہ مذکورہ زمین کے اصل مالک سائل کے دادا ہی شمار ہوں گے، لہذا دادا کی وفات کے بعد مذکورہ 58 ایکڑ اراضی  مرحوم  کے ترکہ میں شامل ہوگی، اور ان کے شرعی وارثوں میں حصص شرعیہ کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی ۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. ... بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."

(کتاب الہبۃ،ج5،ص689،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144607100667
تاریخ07-01-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں