بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل فون میں ہیلوکہنے کا حکم

سوال

موبائل فون میں ہیلو کہنا مناسب ہے یا نہیں؟

جواب

اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک مسلمان کے لیے اپنی گفتگو (چاہے موبائل فون کے ذریعہ ہو یا آمنے سامنے ہو) کا آغاز   و اختتام سلامتی کی دعا یعنی "السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ" سے کرنا چاہیے، اور اسی کی عادت بنانی چاہیے، تاہم کبھی ہیلو کہہ دیا تو یہ بھی جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسے بطورِ عادت اپنانا مناسب نہیں ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن ابن عمر مرفوعا: من ‌بدأ ‌بالكلام ‌قبل ‌السلام ‌فلا ‌تجيبوه."

(كتاب الآداب، باب السلام، ج:7، ص:2948، ط:دار الفكر)

فیض القدیر میں ہے:

"قال في الفردوس: والسلام مشتق من السلامة وهي التخلص من الآفات فكانوا في الجاهلية يحيي أحدهم صاحبه بقوله أنعم صباحا وعم صباحا ويبيت اللعن ويقول سلام عليكم فكأنه علامة للمسالمة وأنه لاحرب ثم جاء الإسلام بالقصر على السلام وإفشائه اه فالمسلم كأنه يقول للمسلم عليه أحييك بأن السلام أي السلامة محيطة بك مني من جميع جهاتك فأنا مسالم لك بكل حال ومنقاد فاقبل عقد هذا التأمين برد مثله."

(حرف السين، فصل في المحلي  بأل من حرف السين، ج:4، ص:149، ط:المكتبة التجارية الكبري، مصر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144606102047
تاریخ24-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں