بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ نافلہ دینے کا افضل طریقہ

سوال

صدقہ نافلہ دینے کا افضل طریقہ کون سا ہے؟ ایک شخص نے اپنی آمدنی کا دسواں حصہ صدقہ کے لیے مختص کیا ہوا ہے تو کیا وہ تنخواہ آنے پر اکٹھا ہی کسی کو دے دے یا اس رقم کو الگ رکھ دے اور تھوڑا تھوڑا کرکے روزانہ کی بنیاد پر کسی کو دے، اس کے لیے افضل طریقہ کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیان کردہ دونوں طریقے جائز ہیں ،افضلیت فوری پیش نظر ضرورت کے اعتبار سے ہے۔  اگر کسی کی ایسی ضرورت پیش نظر ہو جو مکمل رقم سے پوری ہوتی ہو تو اکھٹے  ہی رقم دےدے اور اگر فوری طور پر ایسی صورت سامنے نہ ہو تو تھوڑا تھوڑا کرکے جیسے ضرورت سامنے آئے دےدے۔

مشكاة المصابيح ميں ہے:

"وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبِعَ كَبِدًا جَائِعًا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ."

”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے پیٹ کو سیر کر دے۔ “ 

(كتاب الزكاة، حديث:1946، ج:2، ص:1357، بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغني لأنها تجري مجری الهبة."

(كتاب الزكاة،فصل ركن الزكاة،47/2، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144606101838
تاریخ22-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں