بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اپنے لیے حرمین سے کفن منگوا کر رکھا جاسکتا ہے ؟

سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے لیے حرمین شریفین سے کفن منگواتے ہیں تاکہ انہیں اسی میں کفن دیا جائے، کیا وہاں سے کفن منگوا کر رکھنا درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بطور تبرک حرمین شریفین سے کفن منگوانا جائز ہے۔تاہم اس کو لازمی سمجھنا یا اسی  طرح وہاں کے کفن کو خود اپنے لیے مؤثر سمجھنا درست نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أم عطية قالت: دخل علینا رسول الله  صلی الله  علیه وسلم ونحن نغسل ابنته، فقال: اغسلنها ثلاثاً، أو أکثر من ذلک بماء، وسدر، واجعلن في الآخرۃ کافوراً، فإذا فرغتن فاٰذنني، فلما فرغنا أذناہ، فألقي إلینا حقوہٗ، فقال: أشعرنها إیاہ." 

(کتاب الجنائز، باب مایستحب أن یغسل وتراً، ج:1، ص:423، رقم:1196، ط:دار اليمامة۔دمشق)

عمدۃ القاری میں ہے:

"وهو أصل في التبرک باٰثر الصالحین."

(ج:8، ص:41، ط:دار الفكر۔بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144606101794
تاریخ21-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں