بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تیمورنام اور اس کا معنی

سوال

تیمور نام رکھنا کیسا ہے؟ اسلامک نام ہے؟ اس کا کیا معنی ہے؟

جواب

تیمور ‘‘ ایک معروف بادشاہ کانام ہے، اس کا معنی ہے: لوہا، فولاد .  یہ بہادری سے کنایہ ہوتا ہے، ، معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھا جاسکتا ہے ، تاہم بہتر یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کسی نام  کا انتخاب کرلیا جائے ۔

فیروز اللغات میں ہے:

تیمور (تی مور)(ت ا مذکر)(۱) فولاد      (۲) ایک مشہور مغل فاتح جو چنگیز خان کی نسل سے تھا تیمور لنک."

( ت ی، ص:436، ط:فیروز سنز)

قاموس معانی الأسماء  میں ہے:

" تیمور:اسم علم مذکر مغولی، معناہ : الحدید، اشتھر به تیمور لنک ، أی تیمور الأعرج۔ لفظہ الترکی : تمور، اصل اسم تیمور: مغولی."

(المادة: تیمور)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"الأصل جواز التسمية بأي اسم إلا ما ورد النهي عنه."

(أحکام التسمیة، ‌‌ما تستحب التسمية به من الأسماء، ج:11، ص:331، ط:دار السلاسل)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  میں ہے:

"سموا بأسماء الأنبياء ولا تسموا بأسماء الملائكة» . (متفق عليه)

4752 - وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «إن أحب أسمائكم إلى الله: عبد الله وعبد الرحمن» ". رواه مسلم.

4752 - (وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «إن أحب أسمائكم إلى الله: عبد الله، وعبد الرحمن» ) : قيل: أي: بعد أسماء الأنبياء عليهم السلام بدليل الإضافة فدل على أن الاسمين ليسا بأحب من اسم محمد، فهما في مرتبة التساوي معه، أو يكون اسم محمد أحب من الاسمين إما مطلقا أو من وجه، والله سبحانه أعلم. (رواه مسلم) : وروى الحاكم في الكنى، والطبراني عن أبي زهير الثقفي مرفوعا " إذا سميتم فعبدوا " أي: انسبوا عبوديتهم إلى أسماء الله، فيشمل عبد الرحيم، وعبد الملك وغيرهما. ولا يجوز نحو عبد الحارث ولا عبد النبي، ولا عبرة بما شاع فيما بين الناس."

(کتاب الآداب، باب الأسامی، ج:7، ص:2997، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144606101531
تاریخ17-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں