بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے تمویلی معاملات کرنا

سوال

جو لوگ بینک میں اپنے زیور یا پیسے وغیرہ جمع کرتے ہیں، بینک اس کو بطور شرکت یا مضاربت کے تجارت میں لگا کر اس کی آمدنی کا کچھ حصہ پیسے جمع کرنے والے کو اور کچھ  خود رکھتا ہے یہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی بھی بینک کے ساتھ شرکت یا مضاربت  کے عنوان سے معاملہ کرنا  اور  نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به."

(كتاب البيوع، باب المرابحة و التولية، ج: 5، ص: 166، ط: سعيد)

فتاوی ہندیۃ میں ہے:

"(الفصلُ السّادس في تفسير الرِّبا وأحكامه) وهو في الشرع عبارةٌ عن فضلِ مالٍ ‌لا ‌يُقابله ‌عوضٌ في معاوضة مالٍ بمالٍ وهو محرَّمٌ في كلِّ مكيلٍ وموزونٍ بِيعَ مع جنسه وعلّتُه القدر والجنس".

(کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل السادس،ج:3،ص:117،ط:دار االفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144606101379
تاریخ16-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں