بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کی کھدائی کے وقت دعا کا پڑھنا

سوال

لوگ کہتے ہیں کہ قبر کی کھدائی کرنے سے پہلے دعا پڑھنا ضروری ہے، اگر نہ پڑھی جائے تو قبر محض ایک گڑھا ہے ۔اس کے بارے میں وضاحت فرما دیں۔

جواب

قبر کی کھدائی سے قبل کسی خاص دعا کا پڑھنا شرعاً ثابت نہیں ہے ، لہذا یہ کہنا کہ :"قبر کی کھدائی کرنے سے پہلے دعا پڑھنا ضروری ہے، اگر نہ پڑھی جائے تو قبر محض ایک گڑھا ہے "درست نہیں ہے ۔

نیل الأوطار میں ہے:

"١/ ١٤٦١ - (عن رجل من الأنصار قال: خرجنا في جنازة فجلس رسول الله ﷺ على حفيرة القبر فجعل يوصي الحافر ويقول: "أوسع من قبل الرأس، وأوسع من قبل الرجلين، رب عذق له في الجنة"، رواه أحمد  وأبو داود). [صحيح]"

(نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار، كتاب الجنائز، الباب الرابع: باب تسجية الميت والرخصة في تقبيله،[خامسا] أبواب الدفن وأحكام القبور،[الباب الأول] باب تعميق القبر واختيار اللحد على الشق، الناشر: دار ابن الجوزي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144606100862
تاریخ11-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں