بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کے مینیجر سے ہدیہ وصول کرنے کا حکم

سوال

میرےوالد صاحب کے ایک دوست ہیں جو حبیب بینک میں مینیجر ہیں، وہ ہر سال رمضان میں ہمیں کچھ رقم دیتے ہیں، تو کیا ان پیسوں کا استعمال ہمارے لیے جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد کے دوست کے پاس بینک کے علاوہ کوئی اور  آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے تو ان سے رقم لینا شرعاً جائز نہیں ہے، ایسی رقم کا حکم یہ ہے کہ وصول ہی نہ کی جائے، اور اگر وصول کر لی ہے، اور ابھی استعمال نہیں ہوئی تو ثواب کی نیت کے بغیر غرباء وفقراء کو صدقہ کردی جائے۔

اور آئندہ کےلیے ان سے رقم وصول نہ کی جائے، بلکہ اچھے طریقے سے منع کردیا جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط."

(کتاب الکراھیة، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:422، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144605102150
تاریخ01-12-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں