بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی جگہ ملازم مقرر ہونے کی صورت میں کمائی کا حکم

سوال

میرے والد ایک جگہ ملازمت کرتے تھے،والد  صاحب جب ریٹائر ہوئے تو مجھے اس ملازمت پر  رکھوادیا،میں نے تقریبا 33 سا ل کام کیا ،اب میں بھی ریٹائر ہوچکا ہوں اور میں نے اپنے بیٹے کو اس جگہ بھرتی کروادیا۔

میں نے ملازمت کے عرصہ میں جتنا مال کمایا ہے،میرا بھائی کہتا ہے میرابھی اس میں حصہ بنتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ بھائی کا میرے کمائے ہوئے مال میں حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والد نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سائل کو اس ملازمت کے لیے مقرر کیا تو سائل نے اپنی ملازمت کے دوران  جو کمایا ہے وہ سائل کا حق ہے، کسی اور بھائی کا اس میں شرعا حصہ   نہیں ہے، اور سائل سے اس کمائی کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ۔ البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اپنے بھائی کو کچھ دےدے تو سائل کو اجازت ہے ۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے: 

"والأصل أن الربح إنما يستحق عندنا إما بالمال وإما بالعمل وإما بالضمان."

(کتاب الشرکة ،ج:6،ص:62،ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"لايجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي، كذا في البحر الرائق."

( باب التعزیر،ج:2 ،ص:167،ط:رشیدیہ)

کفایۃ المفتی میں ہے:

"جب لڑکوں نے جدا جدا کمایااور جدا جدا جائیداد بنائی تو ہر ایک اپنی جائیداد کا جداگانہ مالک ہوگا، صرف ہم طعام ہونے سے جائیداد مشترک نہیں ہوجاتی، ہاں باپ کا ترکہ قاعدہ وراثت کے مطابق سب وارثوں میں تقسیم ہوگا۔                          

(کفایت المفتی،کتاب الفرائض ، ج:8، ص:284،ط:دار الاشاعت کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144605101842
تاریخ27-11-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں