بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی تعمیر میں بطور قرض پیسے دینا

سوال

محلے کی مسجد کی تعمیر کے لیے میں نے دس لاکھ روپے قرض دیے ہیں، اب محلے والے میرا قرض واپس کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کیا اس مسجد میں لوگوں کے لیے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگرواقعۃ ً سائل نے مسجدکی تعمیرکےلیے بطور ِقرض پیسے دیے ہیں تو محلے والوں کو چاہیے کہ اس کا قرضہ اداکریں،باقی مذکورہ مسجد میں نمازپڑھنا درست اور جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي فتاوى الحانوتي الذي وقفت عليه في كلام أصحابنا ‌أن ‌الناظر ‌إذا ‌أنفق من مال نفسه على عمارة الوقف، ليرجع في غلته له الرجوع ديانة، لكن لو ادعى ذلك لا يقبل منه، بل لا بد أن يشهد أنه أنفق ليرجع كما في الرابع والثلاثين من جامع الفصولين."

(‌‌كتاب الوقف، مطلب في الاستدانة على الوقف: 4/ 440، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144605101384
تاریخ23-11-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں