بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر موہوب لہ خود سے ہدیہ واپس کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ؟

سوال

کسی شخص نے اپنے کسی دوست کو کوئی چیز ہدیہ کی ہو، پھر ہدیہ دینے والا اپنے دوست سے کسی بات پر  ناراض ہوکر بات کرنا چھوڑ دے اور اس کا دوست ہدیہ کو واپس کرنے لگے تو اس صورت میں ہدیہ کو واپس کرنا کیسا ہے؟

جواب

 واضح رہےکہ شرعی وجہ کے بغیر  کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ بات چیت نہ کرنےوالے کے بارےمیں احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہو ئی ہیں؛ لہذا مذکورہ دونوں افراد پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہ کریں، بلکہ آپسی اختلافات اورناراضگی کو ختم کرکےایک دوسرے کے ساتھ حُسنِ سلوک اوراچھےبرتاؤکے ساتھ رہیں ۔نیز صورت مسئولہ میں چوں کہ واہب(ہبہ کرنے والا) رجوع نہیں کررہا ہے، بلکہ موہوب لہ(جس کو ہدیہ دیا گیا ہے)، وہ از خود ہدیہ  واپس کررہا ہے، تو ایسا کرنا جائز ہے ،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ اچھا نہیں ۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لا يحل للمؤمن ‌أن ‌يهجر ‌أخاه فوق ثلاثة أيام."

(باب تحريم الهجر فوق ثلاث بلا عذر شرعي، ج:4، ص:1984، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولكن الموهوب له وهب الموهوب للواهب وقبله الواهب الأول لا يملكه حتى يقبضه."

(كتاب الهبة، الباب السادس، ج:4، ص:391، ط:دار الفكر۔بيروت)

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144605101239
تاریخ20-11-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں