بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق معلق کے سوالیہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتا

سوال

عبد الکریم زمانہ طالب علمی میں کلاس سے پڑھائی کر کے باہر نکلا تو چند ساتھیوں کو آپس میں مسئلہ طلاق پربحث کرتےہوئے دیکھا، مثلاً زيد راشد اور خالد کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا،کہ شادی سے پہلے بھی طلاق دو  گے تو طلاق واقع ہوجائےگی، تو عبد الكريم نے كہا ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟اس کے بعد عبد الکریم نے یہ الفاظ کہے(اچھا اگر میں یہ کہوں یا کہتا ہوں کہ میں جس سےبھی شادی کروں گا اسے طلاق تو کیا طلاق ہو جاںٔے گی؟) تو زید نےجواب میں عبد الکریم سے کہا ہاں طلاق ہو جائے گی، تو کیاعبدالکریم نے جو اس طرح کے الفاظ استعمال کیےہیں، اس کی وجہ سے شادی ہونے کے بعد طلاق ہو جائے گی ؟

نوٹ: عبد الکریم نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں(اچھا اگر میں یہ کہوں یا کہتا ہوں کہ میں جس سےبھی شادی کروں گا اسے طلاق تو کیا طلاق ہو جائے گی؟)یہ الفاظ ایک مرتبہ کہے ہیں،لیکن یہ تمام باتیں تقریباً دس سال پہلے کی ہیں، اس وجہ سے عبد الکریم کا کہنا ہے کہ مجھے صحیح سے یاد بھی نہیں ہے کہ میں نے یہی کہا تھا یا کچھ اور کہا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں عبدالکریم نے ساتھیوں سے مذکورہ جملہ(اچھا اگر میں یہ کہوں یا کہتا ہوں کہ میں جس سےبھی شادی کروں گا اسے طلاق تو کیا طلاق ہو جائے گی؟) چوں کہ استفہام یعنی سوال کے طور پر کہا تھا،لہذا شادی کرنے کے بعد اس  کی بیوی پر اس وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان ركن الطلاق ‌فركن ‌الطلاق ‌هو ‌اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ أما اللفظ فمثل أن يقول في الكناية: أنت بائن أو أبنتك أو يقول في الصريح أنت طالق أو طلقتك وما يجري هذا المجرى إلا أن التطليق والطلاق في العرف يستعملان في المرأة خاصة."

(کتاب الطلاق،فصل في بيان ركن الطلاق، ج:3، ص:98، ط:مطبعة الجمالية بمصر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144605101114
تاریخ19-11-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں