بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے بعد احتیاطاً ظہر پڑھنا

سوال

کیا جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعت احتیاطاً ظہر   پڑھنی چاہیے؟

جواب

جن علاقوں میں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں وہاں جمعہ کی نماز ادا کی جائے گی اور جن علاقوں میں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں، وہاں ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، جمعہ کی نماز کے بعد احتیاط ظہر پڑھنا درست نہیں،    جمعہ یا ظہر میں سے کوئی ایک نماز پڑھی جائے گی، دونوں نمازیں ادا کرنا درست نہیں ہے۔ 

البحر الرائق میں ہے:

"أقول: وقد كثر ذلك من جهلة زماننا أيضًا ومنشأ جهلهم صلاة الأربع بعد الجمعة بنية الظهر، وإنما وضعها بعض المتأخرين عند الشك في صحة الجمعة بسبب رواية عدم تعددها في مصر واحد وليست هذه الراية بالمختارة، وليس هذا القول أعني اختيار صلاة الأربع بعدها مرويًا عن أبي حنيفة وصاحبيه تى وقع لي أني أفتيت مرارا بعدم صلاتها خوفا على اعتقاد الجهلة بأنها الفرض، وأن الجمعة ليست بفرض". 

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، 2/254، ط: علمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي البحر: وقد أفتيت مرارا بعدم صلاة الأربع بعدها بنية آخر ظهر خوف اعتقاد عدم فرضية الجمعة وهو الاحتياط في زماننا". 

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج: 2، ص: 137، ط: سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:

’’جمعہ کی نماز کے بعد احتیاط الظہر پڑھنا ناجائز ہے۔ جمعہ کے بعد چار رکعتیں جو بہ نیت احتیاط الظہر پڑھتے ہیں یہ صحیح نہیں ہیں‘‘۔

(3/219، ط: دارالاشاعت)

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144605100829
تاریخ17-11-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں