
میں پیشاب اور مذی کے قطروں کے معاملے میں شدید وسوسوں کا شکار ہوں اور بہت سخت پریشان ہوں،پہلے مجھے قطروں کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، مجھے بس پیشاب کے بعد ایک دو قطرے آتے تھے اور سال میں ۱-۲ دفعہ کبھی پیشاب کے ۲۰-۲۵ منٹ بعد سجدے میں جاتے ہوئے آجاتے تھے جس کے لیے میں احتیاط کرتا تھا کہ پیشاب کے بعد دوسری شلوار پہنتا تھا، اور کبھی صاف شلوار پر قطرہ لگ جاتا تو پانی چھڑک دیتا تھا اور شلوار پر مسح کرلیتا تھا، بہت سکون والی زندگی تھی اور ذہن بہت صاف تھا، پھر اچانک مجھے معلوم ہوا کہ شلوار اس طرح پاک نہیں ہوتی، اس کا میرے ذہن پر اتنا خطرناک اثر پڑا کہ مجھے سارا دن ۲۴ گھنٹے قطروں کا شک شروع ہوگیا اور میں نے حد سے زیادہ چیک کرنا شروع کردیا، سارا دن میں شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کے تری دیکھتا رہتا، پھر میں اس میں اور بڑھتا چلا گیا اور میں نے پورے دن شلوار پیشاب کے مقام پر لگا کر چیک کرنا شروع کردی جس کی وجہ سے نشان بننا شروع ہوگۓ، اس کا میرے ذہن پے اتنا خطرناک اثر پڑا ہے کہ اب چیک کیے بغیر میرا گزارا ہی نہیں ہوتا اور میں انتہائی غلو کے ساتھ چیک کرتا ہوں، اتنا شدید وہمی ہونے کی وجہ سے میرے قطرے آنا شروع ہوگۓ، جہاں پہلے مجھے کبھی مذی نکلنے کا شک تک نہیں ہوا اور پیشاب کے بعد ۵-۱۰ منٹ میں میں فارغ ہوجاتا تھا، وہاں سارا دن قطروں کا وہم اور وسوسہ شروع ہوگیا، اور اب پیشاب کے بعد بھی کسی بھی وقت قطرہ آجاتا ہے اور بغیر پیشاب اور بغیر شہوت کے کسی بھی وقت مذی آجاتی ہے۔
مجھے سارا دن یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ قطرہ نہ آجاۓ شلوار ناپاک نہ ہوجاۓ، اس کی وجہ سے میں شدید ڈپریشن میں آگیا ہوں اور زندگی سے بیزار سا ہوگیا ہوں، زندہ رہنے کا دل نہیں چاہتا کہ کس مسئلہ میں پھنس گیا، نہ نیند آتی ہے نہ پڑھائی میں دل لگتا ہے۔ بہر حال اب تو دماغ ایسا ہوگیا اور اب واپس نارمل ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے، مگر اب مجھے ذہن کی وجہ سے قطرے آنا شروع ہوگئے ہیں کبھی بھی مذی آجاتی ہے اور پیشاب کے بعد بھی قطرے آتے ہیں اور بہت احتیاط کرنا اور شلوار دھونے وغیرہ سے مزید پریشان ہورہا ہوں، یہ مجھے پتا ہے کہ پہلے جب ذہن صاف تھا تب قطرے نہیں آتے ہوں گے، مگر اب آنا شروع ہوگئے ہیں، علاج کرا کرا کے تھک گیا ٹھیک نہیں ہوا۔
اب میری اس خطرناک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوے فتویٰ دیں کہ کل میری نظر اس حدیث پر پڑی جو میں سوال کے آخر میں لکھ دوں گا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح الفاظ میں فرمایا ہے کہ چلو بھر کے پانی چھڑک دو کپڑوں پر مذی لگنے کی صورت میں، اور مجھے معلوم ہوا کہ امام احمد ؒ بھی اس کی گنجائش دیتے ہیں کہ اس سے شلوار پاک ہوجاۓ گی، کیا اگر کبھی مذی آجاۓ تو میں وضو کرتے ہوے اس طرح کرلیا کروں؟ کیا کوئی گنجائش نکلتی ہے؟ کیوں کہ قران میں واضح کہا گہا ہے کہ دین میں کوئی تنگی نہیں ہے وغیرہ، واضح رہے کہ اب مجھے مذی آنا شروع ہوگئی ہے لیکن شروع وسوسوں کی وجہ سے ہی ہوئی ہے، اب براہ کرم مجھے اس کی گنجائش دے دیں کہ میرا یہ عمل کافی ہوگا تاکہ میرا ذہنی دباؤ تھوڑا تو کم ہو، ذہن پھر بھی اب صاف نہیں ہوسکتا، لیکن ذہنی دباو تھوڑا کم ہوجاۓ گا، براۓ مہربانی بتادیں میں امام احمد کی بات پے عمل کرلوں؟ حدیث مندرجہ ذیل ہے:
حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي ، نا ابن علية ، نا محمد بن إسحاق . ح وحدثنا محمد بن ابان، نا محمد بن أبي عدي، عن محمد بن إسحاق، أخبرني سعيد بن عبيد بن السباق، عن أبيه، عن سهل بن حنيف، قال: كنت ألقى من المذي شدة وعناء، وكنت أكثر الاغتسال منه، فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال:" إنما يجزيك الوضوء"، قلت: فكيف بما يصيب ثوبي منه؟ قال:" يكفيك أن تأخذ كفا من ماء تنضح به من ثوبك حيث ترى أنه أصاب". وقال ابن أبان، قال: حدثني سعيد بن عبيد بن السباق. قال أبو بكر: حديث سهل بن حنيف أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن المذي، قال:" فيه الوضوء"، قلت: أرايت بما يصيب ثيابنا؟ قال:" يكفيك أن تأخذ كفا من ماء فتنضح به ثوبك حيث ترى أنه أصاب".
واضح رہے کہ جمہور فقہائے امت کے نزدیک مذی ناپاک ہے، اور اُس سے کپڑے یا بدن کو پاک کرنے کا طریقہ غسل (یعنی دھونا) ہی ہے، محض پانی بہانے سے پاک نہیں ہوتی۔ فقط امام احمد بن حنبل ؒ کا ایک قول یہ ہے کہ پانی بہانے سے بھی مذی پاک ہوجاتی ہے، اور اُن کا مستدل سوال میں ذکر کردہ حدیث ہے، جسے امام احمد ؒ نے خود اپنی کتاب مسند احمد میں، اور امام ترمذیؒ نے سننِ ترمذی میں نقل کیا ہے، لیکن جمہور فقہائے کرام کے نزدیک اس حدیث میں بھی وضو اور نضح سے مراد دھونا ہی ہے، جیسا کہ دوسری روایت جو حضرت علی ؓ سے مروی ہے، میں دھونے کی صراحت موجود ہے اور اُس حدیث کو امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ نے بھی صحیحین میں نقل کیا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اولاً تو آپ کو چاہیے کہ اپنے ذہن کو وساوس سے پاک کرنے کی کوشش کریں، اپنے آپ کو مثبت کاموں میں مصروف رکھیں اور اس طرف زیادہ دھیان نہ دیں، نیز ایک تدبیر یہ اختیار کریں کہ انڈر وئیر میں ٹشوپیپر کا استعمال کریں اس طور پر کہ ہر وقت شرمگاہ کے ساتھ ٹشو پیپر رکھیں اور جب بھی پیشاب وغیرہ کریں تو اس کے بعد ٹشوپیپر رکھ لیں، تاکہ استنجاء کے بعد اگر پیشاب یا مذی وغیرہ کے قطرے نکلیں تو وہ ٹشوپیپر میں جذب ہوجائیں اور کپڑے خراب نہ ہوں، پھر جب نماز کا وقت ہونے والا ہو، تو صرف پانی سے استنجاءکرکے پرانے ٹشوپیپر کو ہٹاکر نیا ٹشو رکھ لیں اور وضو کرکے نماز پڑھ لیں، نماز کے بعد پھر ٹشو رکھ لیں، نیز وضو کرنے کے بعد میانی پر پانی کے چھینٹے مارلیاکریں، اس کے بعد اس طرف توجہ نہ دیں اور اطمینان سے نماز پڑھیں، باربار شلوار میں ہاتھ ڈال کر شرم گاہ کو چھو کر یا کپڑے سے شرم گاہ دبا دبا کر کپڑے چیک کرنے کی ضرورت نہیں؛ کیوں کہ شرم گاہ کو جتنا زیادہ دبایا جائے گا، کچھ نہ کچھ تری نکلتی رہے گی، جیسا کہ ملفوظات کمالات اشرفیہ میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے منقول ہے:
"عوارف المعارف میں لکھا ہے کہ اس کا حال تھن کا سا ہے کہ جب تک ملتے رہیں کچھ نہ کچھ نکلتا رہتا ہے اور اگر یوں ہی چھوڑ دیں تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔ جب تک بتکلف جبر کر کے وسوسہ کے خلاف نہ کیجیے گا یہ مرض نہ جائے گا ۔۔۔ چند روز بے التفاتی کرنے سے وسوسے جاتے رہیں گے۔"
(ملفوظات کمالات اشرفیہ، وسوسہ طہارت کا علاج، ص:۲۶۷،ط : بشریٰ)
لہٰذا محض وسوسہ کی وجہ سے شرم گاہ ہرگز نہ مَلیں، ایسے وساوس کا علاج ہی توجہ نہ دینا ہے، پس اپنے اوپر جبر کرکے شرم گاہ کو چھونے کی عادت ختم کریں، جھانگیہ (انڈروئیر) پہننے کا معمول بنائیں، استنجاء کے بعد ٹشو رکھیں۔ تاہم اگر احتیاط کے باوجود کبھی کبھار مذی یا پیشاب کے قطرے کپڑوں پر لگ بھی جائیں اور آپ کو یقین ہوجائے کہ کپڑے پر قطرے لگے ہیں، تو پریشان ہوئے بغیر محض پانی سے تین مرتبہ کپڑے کے اس حصہ کو دھو کر نچوڑ لیں، اس سے زیادہ غلو نہ کریں۔ نیز کسی اچھے حاذق حکیم سے بھی رجوع کریں۔ اور جب جب وسوسہ کی کیفیت ہو، تو "أعوذُ باللهِ، آمنتُ باللهِ ورسُلِهِ" زبان سے کہہ دیا جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ وسوسوں سے حفاظت ہوگی، اور درج ذیل آیت بکثرت پڑھیں:
﴿رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ﴾ [المؤمنون:97، 98]
نیز اللہ کا ذکر خصوصاً کلمہ طیبہ بکثرت پڑھنے کااہتمام کریں۔
البحر الرائق میں ہے:
"وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه، وهو أغلب في النساء من الرجال ... وأجمع العلماء أنه لا يجب الغسل بخروج المذي والودي كذا في شرح المهذب. وإذا لم يجب بهما الغسل وجب بهما الوضوء وفي المذي حديث علي المشهور الصحيح الثابت في البخاري ومسلم وغيرهما."
(باب موجبات الغسل، ١ / ٦٥ . ط: دار الكتاب الإسلامي)
المجموع شرح المہذب میں ہے:
"أجمعت الأمة على نجاسة المذي والودي ثم مذهبنا ومذهب الجمهور أنه يجب غسل المذي ولا يكفي نضحه بغير غسل وقال أحمد بن حنبل رحمه الله أرجو أن يجزيه النضح واحتج له برواية في صحيح مسلم في حديث علي (توضأ وانضح فرجك) ودليلنا رواية اغسل وهي أكثر والقياس على سائر النجاسات وأما رواية النضح فمحمولة على الغسل وحديث علي رضي الله عنه صحيح رواه هكذا أبو داود والنسائي وغيرهما بأسانيد صحيحة ورواه البخاري ومسلم".
(كتاب الحيض، باب إزالة النجاسة، ٢/ ٥٥٢، ط: إدارة الطباعة المنيرية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل ... (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي، وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ١ / ١٣٦ ط: سعيد)
وفيه أيضاً:
"(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لايقطر ... وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار ... فقال: فعلم بهذا أن المذهب اعتبار غلبة الظن وأنها مقدرة بالثلاث لحصولها به في الغالب وقطعا للوسوسة وأنه من إقامة السبب الظاهر مقام المسبب الذي في الاطلاع على حقيقته عسر كالسفر مقام المشقة اهـ. وهو مقتضى كلام الهداية وغيرها، واقتصر عليه في الإمداد، وهو ظاهر المتون حيث صرحوا بالثلاث."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ١ / ٣٣١، ط: سعيد)
وفيه أيضاً:
"(ولا يضر بقاء أثر) كلون وريح (لازم) فلا يكلف في إزالته إلى ماء حار أو صابون ونحوه، بل يطهر ما صبغ أو خضب بنجس بغسله ثلاثا والأولى غسله إلى أن يصفو الماء. قال ابن عابدين: (قوله: بنجس) بكسر الجيم أي: متنجس إذ لو كان بعين النجاسة كالدم وجب زوال عينه وطعمه وريحه ولا يضر بقاء لونه كما هو ظاهر من مسألة الميتة أفاده ح."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ١/ ٣٢٩، ط: سعيد)
الفتاویٰ الفقہیہ الکبریٰ للہیتمی میں ہے:
" (وسئل) - نفع الله به - عن داء الوسوسة هل له دواء؟
(فأجاب) بقوله: له دواء نافع وهو الإعراض عنها جملة كافية.
وإن كان في النفس من التردد ما كان - فإنه متى لم يلتفت لذلك لم يثبت بل يذهب بعد زمن قليل كما جرب ذلك الموفقون، وأما من أصغى إليها وعمل بقضيتها فإنها لا تزال تزداد به حتى تخرجه إلى حيز المجانين بل وأقبح منهم، كما شاهدناه في كثيرين ممن ابتلوا بها وأصغوا إليها وإلى شيطانها الذي جاء التنبيه عليه منه - صلى الله عليه وسلم - بقوله: «اتقوا وسواس الماء الذي يقال له الولهان» أي: لما فيه من شدة اللهو والمبالغة فيه كما بينت ذلك وما يتعلق به في شرح مشكاة الأنوار، وجاء في الصحيحين ما يؤيد ما ذكرته وهو أن من ابتلي بالوسوسة فليعتقد بالله ولينته.
فتأمل هذا الدواء النافع الذي علمه من لا ينطق عن الهوى لأمته.
واعلم أن من حرمه فقد حرم الخير كله؛ لأن الوسوسة من الشيطان اتفاقا، واللعين لا غاية لمراده إلا إيقاع المؤمن في وهدة الضلال والحيرة ونكد العيش وظلمة النفس وضجرها إلى أن يخرجه من الإسلام.
وهو لا يشعر أن الشيطان لكم عدو فاتخذوه عدوا.
وجاء في طريق آخر فيمن ابتلي بالوسوسة فليقل: آمنت بالله وبرسله. ولا شك أن من استحضر طرائق رسل الله سيما نبينا - صلى الله عليه وسلم - وجد طريقته وشريعته سهلة واضحة بيضاء بينة سهلة لا حرج فيها وما جعل عليكم في الدين من حرج، ومن تأمل ذلك وآمن به حق إيمانه ذهب عنه داء الوسوسة والإصغاء إلى شيطانها.
وفي كتاب ابن السني من طريق عائشة: - رضي الله عنها - «من بلي بهذا الوسواس فليقل: آمنا بالله وبرسله ثلاثا، فإن ذلك يذهبه عنه»".
( كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ١ / ١٤٩، ط: المكتبة الإسلامية)
منتقیٰ الاذکار میں ہے:
"ما يقول إذا بلي بالوسوسة: يقول: أعوذ بالله، آمنت بالله ورسله. قال النبي صلى الله عليه وسلم: « … فإذا بلغه فليستعذ بالله ولينته» ، وقال عليه الصلاة والسلام: « … فمن وجد من ذلك شيئا، فليقل: آمنت بالله ورسله»"
(الفصل الثالث في أذكار مشروعة في أحوال ومناسبات، ما يقول إذا بلي بالوسوسة، ص: ٤٥، ط: دار الألوكة للنشر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144604102805
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن