بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹے اور چار بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال 2021ء میں ہوا،ان کے ورثاء میں ایک بیوہ،دو بیٹےاور چار بیٹیاں تھیں،پھر 2023ء میں میری  والدہ (مرحوم کی بیوہ) کا انتقال ہوا، ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں،والد صاحب کی جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی؟ دادا ،دادی، نانا اور نانی کا پہلےانتقال ہوچکا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ  یہ ہے کہ مرحوم کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،مرحوم کے ذمہ کسی کا قرضہ ہو اس کو کل مال سے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو 8 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم والد کے ہر ایک بیٹے کو دوحصے اور مرحوم والد کی ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:( والد، والدہ)8

بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1

یعنی فیصد کے اعتبار سے  مرحوم والد کے ہر ایک بیٹے کو 25 فیصد اور مرحوم والد کی ہر ایک بیٹی کو 12.5 فیصد ملے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604102462
تاریخ28-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں