بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے چندے کی رقم سے عوام کے لیے حجرہ کرسیاں اور میزیں وغیرہ بنانا

سوال

عرض ہے کہ ہمارے محلے کی مسجد کا سرکاری فنڈ (تقریبا 13 سے 14 روپے منظور ہواتھا)ہماری مسجد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس پر کوارٹربنائے اور اس سے کرایہ وصول کرکے مسجد فنڈ میں جمع کرتے رہے۔پھر ہم نے کرائے اور چندے کے پیسوں سے ایک عوامی وقف حجرہ (محلے کے لوگوں کے لیے)کچھ کرسیاں اور میزیں خریدیں۔

اب استفتاء یہ ہے کہ :

1:کیا یہ خرید جائز ہے؟

2؟اگر جائز نہیں تو کیا اب وہ رقم مسجد کے فنڈ میں اپنی جیب سے جمع کرنا ضروری ہے؟

جواب

مسجد کے لیے حاصل ہونے والے چندے کی رقم  کو مسجد کی ضرورت کے علاوہ کسی اور مصرف میں خرچ کرنا شرعا جائز نہیں تھا،یہ مسجد کے مال میں خیانت ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر مسجد کے چندہ کی رقم سےمسجد کی ضرورت کے علاوہ کسی بھی مصرف میں خرچ کی گئی ہے تواس رقم کو مسجد کے چندے میں لوٹاکرمسجد کے مصرف خرچ کرنا ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."

( كتاب الوقف ج4،ص445،ط:سعيد)

وفیہ ایضا:

"فإن كان ‌الوقف ‌معينا على شيء يصرف إليه....."

(کتاب الوقف،ج4،ص368،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604102289
تاریخ26-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں