بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ کرے تمہیں طلاق ہو جائے کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ "تم طلاق طلاق کرتی رہتی ہو،اللہ کرے کہ تمہیں طلاق ہو جائے"،آیا اس جملہ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی بیوی پر مذکورہ جملے سے کوئی  طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ولو قال: إن أحب الله أو رضي أو أراد أو قدر لا يقع الطلاق كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الطلاق،ج:1،ص:455،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604101436
تاریخ19-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں