بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نومود کے بالوں کے بقدر چاندی یا رقم صدقہ کرنا

سوال

کیابچے کےبال منڈوانے کے بعد بال کا کچھ حق بھی ادا کرنا پڑتا ہے ؟

جواب

واضح رہےکہ نومولود بچہ کاعقیقہ کرنےکےبعد سر کے بال منڈوانااورسرکےبالوں کے ہم وزن  چاندی یا اس کے وزن کے بقدر رقم  صدقہ کرنا مسنون ہے،جیسا کہ سنن ترمذی کی روایت میں حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسنؓ کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی اور فرمایا: فاطمہؓ! اس کا سر منڈواؤ اور اس کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرو۔

 بالوں کا وزن کرکے کسی صراف سے اس وزن کے برابر چاندی کی قیمت لگوائی لی جائے ،اسی سے رقم کا صحیح اندازہ ہوسکے گا۔

سنن ِترمذی میں ہے:

"1519 - حدثنا محمد بن يحيى القطعي قال: حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، عن محمد بن علي بن الحسين، عن علي بن أبي طالب قال: عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن بشاة، وقال: «يا فاطمة، احلقي رأسه، وتصدقي بزنة شعره فضة»، قال: فوزنته فكان وزنه درهما أو بعض درهم: هذا حديث حسن غريب، وإسناده ليس بمتصل وأبو جعفر محمد بن علي بن الحسين لم يدرك علي بن أبي طالب."

 (ابواب الأضاحی، باب العقیقۃ بشاۃ، ج:4 ، ص:99،ط: مصطفیٰ بابی الحلبی)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا."

( کتاب الحظر والإباحۃ،ج:6 ، ص336،  ط:سعید)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604101115
تاریخ15-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں