بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فلسطین کے مسلمانوں کی زکاۃ سے امداد کرنا

سوال

 آج کل جو حالات فلسطین میں ہیں ،ان  کو دیکھتے ہوئے  ہم زکاۃ کی رقم فلسطین بھیج سکتے ہیں ؟

جواب

فلسطین کے مستحقِ زکوۃ مسلمانوں کی  زکاۃ کی رقم سے امداد کی جا سکتی ہے،اورکسی ایسے معتبر ادارے کے ذریعہ زکاۃ  کی رقم فلسطین کے مظلومین کے لیے دی جا سکتی ہے جو زکاۃ کی رقم مستحقین تک پہنچادے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ."(التوبة: 60)

ترجمہ: صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات پر معین ہے اور جن کی دلجوئی کرنا ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے قرضے میں اور جہاد میں اور مسافروں میں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالی بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں ۔ (از بیان القرآن)

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"ويكره ‌نقل ‌الزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها الإنسان إلى قرابته أو إلى قوم هم ‌أحوج إليها من أهل بلده."

(كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف،ج1،ص190،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604101085
تاریخ15-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں