بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم وراثت/دوبیٹےاوردوبیٹیاں

سوال

ایک شخص کاانتقال ہوا،جب کہ اس کےورثاء میں دوبیٹےاوردوبیٹیاں ہیں،مرحوم کےترکہ میں ایک مکان ہے،جس کی مالیت 80لاکھ روپےہے،

سوال یہ ہے کہ مذکورہ ترکہ ورثاءمیں کس طرح تقسیم ہوگی؟

واضح رہے کہ مرحوم کےوالدین اوربیوہ کامرحوم کی زندگی میں انتقال ہواہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کےحقوق متقدمہ اداکرنےکےبعدمابقیہ کل ترکہ کو6حصوں میں تقسیم کرکے2،2حصےہرایک بیٹےکو،اورایک،ایک حصہ ہرایک بیٹی کوملےگا۔

صورت تقسیم یہ ہے۔

مرحوم (والد)6

بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
2 2 1 1

یعنی 80لاکھ روپےمیں سے 2666666.66روپےہرایک بیٹےکو،اور1333333.33روپےہرایک بیٹی کوملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604100824
تاریخ12-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں