دو اسمانوں میں 500 سال فاصلہ ہونے کا مطلب
سوال
اوپر خلاء میں جو یہ لاکھوں اربوں کی تعداد میں ستارے اور کہکشائیں موجود ہیں جو ہماری دنیا سے لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر ہیں کیا یہ سب پہلے آسمان کے نیچے ہیں اگر یہ پہلے آسمان کے نیچے ہیں توآسمان تو ہم سے لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر ہوگا تو حدیث میں جو پہلے آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلا 500 سال بتایا گیا ہے تو اسکا کیا مطلب ہوگا کیوں کے باقی بہت سی احادیث میں دوسری چیزوں میں بھی ایسے ہی سالوں کے بارے میں بتایا گیا ہے، مثال کے طور پر جھنم کے ایک درجے سے دوسرے درجے تک کا فاصلہ۔
جواب
احادیث مبارکہ میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی جو مسافت ذکر ہے، وہ مختلف روایات میں مختلف وارد ہے، اور ان سب سے مراد کوئی تحدید نہیں ہے بلکہ یہ بتلانا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان میں کافی فاصلہ ہے،جس کو کوئی انسان طے نہیں کرسکتا(البتہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مسافت کو طے کرنابطورِ معجزہ تھا) لہذا یہی احادیث کا محمل ہے، اور ان احادیث کی حقیت کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔
شرح المشکاۃ للطّیبي میں ہے:
"قال: (هل تدرون ما بعد ما بين السماء والأرض؟) قالوا. لا ندري قال: (إن بعد ما بينهما إما واحدة وإما اثنتان أو ثلاث وسبعون سنة، والسماء التي فوقها كذلك) حتى عد سبع سماوات ... والمراد بـ (السبعون) في الحديث التكثير لا التحديد، لما ورد أن بين السماء والأرض مسيرة خمسمائة سنة، والتنكير هنا أبلغ والمقام له أدعى."
(کتاب أحوال القيامة وبدء الخلق، ج:11، ص:3624، ط:مكتبة نزار)
متن العقيدة الطحاوية میں ہے:
"والمعراج حق وقد أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم وعرج بشخصه في اليقظة إلى السماء ثم إلى حيث شاء الله من العلا وأكرمه الله بما شاء وأوحى إليه ما أوحى."
(ص:45، ط: المکتب الإسلامي، بيروت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

